📝 مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی میں
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو عام طور پر مستقبل کی ٹیکنالوجی سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ حقیقت میں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہم دن بھر میں کئی بار AI کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر رابطے میں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ گوگل میپ استعمال کرتے ہیں اور یہ آپ کو ٹریفک کی صورتحال کے مطابق تیز ترین راستہ بتاتا ہے، تو دراصل یہ AI ہی ہے جو ہزاروں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے صحیح نتیجہ نکالتا ہے۔ اسی طرح، یوٹیوب یا نیٹ فلکس پر جو ویڈیوز اور فلمیں آپ کو تجویز کی جاتی ہیں، وہ بھی AI الگورتھم کی بدولت ہوتی ہیں جو آپ کی پسند اور رجحانات کو سمجھتے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں AI نے ایک انقلاب برپا کیا ہے۔ آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اب ہر طالب علم کی ضرورت اور رفتار کے مطابق نصاب تیار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک اسٹوڈنٹ کسی مضمون میں کمزور ہے تو AI اس کے لیے زیادہ مشقیں اور مثالیں فراہم کرتا ہے۔ صحت کے میدان میں بھی یہ ٹیکنالوجی حیرت انگیز نتائج دکھا رہی ہے۔ ڈاکٹرز اب AI کی مدد سے بیماریوں کی جلد تشخیص کر سکتے ہیں، خاص طور پر پیچیدہ بیماریوں جیسے کینسر میں، جہاں یہ سسٹم مریض کے ٹیسٹ اور رپورٹس کا باریک بینی سے تجزیہ کرتا ہے۔
روزمرہ کی سہولتوں میں بھی AI ہماری زندگی آسان بنا رہا ہے۔ ورچوئل اسسٹنٹ جیسے "سیری"، "گوگل اسسٹنٹ" اور "ایلیکسہ" ہماری آواز کو پہچان کر ہمیں مطلوبہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر میں AI فراڈ کی شناخت کرتا ہے اور صارفین کے پیسوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ زراعت میں بھی یہ ٹیکنالوجی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف ٹیکنالوجی کا ایک حصہ نہیں بلکہ ایک ایسا انقلاب ہے جو ہماری زندگیوں کو ہر لمحہ بدل رہا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کہیں ہم AI پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ کر بیٹھیں۔ کیونکہ آخر کار فیصلہ سازی اور اخلاقیات کا شعور انسان ہی کے پاس ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں