🌦 : کیا شدید موسمی حالات اب زیادہ عام ہو گئے ہیں؟

دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ شدید موسمی حالات کا پہلے سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی کی لہریں، کبھی طوفانی بارشیں، کبھی برفانی طوفان اور کبھی سخت خشک سالی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب پہلے بھی ہوتا تھا یا اب یہ واقعات زیادہ بار بار پیش آنے لگے ہیں؟

سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ان شدید حالات کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ماضی میں بھی قدرتی آفات آتی رہیں، لیکن موجودہ دور میں ان کی شدت اور تعداد دونوں بڑھ گئی ہیں۔ مثال کے طور پر گرمی کی لہریں (Heatwaves) اب زیادہ دنوں تک رہتی ہیں اور زیادہ علاقوں کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں بلکہ بجلی کے نظام پر بھی دباؤ ڈالتی ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ ایئر کنڈیشنر اور کولنگ سسٹمز پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح بارشوں کے پیٹرن بھی بدل رہے ہیں۔ کہیں معمول سے زیادہ بارش ہو رہی ہے جس سے سیلاب آ جاتے ہیں، اور کہیں بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین بنجر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر کسانوں کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ وہ فصلوں کی درست منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔

سمندری طوفان (Hurricanes, Cyclones) بھی پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ گرم سمندر ان طوفانوں کو توانائی فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں تباہی بڑھ رہی ہے۔ گھروں کی بربادی، لوگوں کی ہجرت اور روزگار کا ختم ہونا ان طوفانوں کے عام اثرات ہیں۔

شدید سردی اور برفانی طوفان بھی بعض خطوں میں بڑھ گئے ہیں۔ اگرچہ مجموعی طور پر درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن موسمی نظام کی بے ترتیبی کی وجہ سے کبھی کبھار غیر معمولی برفباری بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہ سب اشارہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت ہے اور اس کے اثرات تیز ہو رہے ہیں۔ ہمیں ایسے حالات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کو انفراسٹرکچر مضبوط بنانا ہوگا، جبکہ عام لوگوں کو بھی ماحول دوست عادات اپنانا ہوں گی تاکہ یہ مسئلہ مزید نہ بڑھے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس